ہم کیسے برباد ہوٸے
یہ صرف ہائیکورٹ کے ججز کو حاصل مراعات کی سرکاری ویب ساٸٹ پہ جاری لسٹ ہے۔ ہر ”معزز“ جج کو 500 لیٹر پیٹرول ماہانہ۔ یعنی ایک لاکھ 4500 روپے۔ گھر کا کرایہ 65000 روپے۔ مالی، سوٸپر، کلرک، اردلی اور کک کی تنخواہ سوا لاکھ روپے۔ یوٹیلٹی بلز کی کوٸی حد ہے نہ حساب Unlimited۔ میڈیکل الاونس 67000 روپے۔ گارڈن چارجز 25000۔ آفیسر الاونس 269525 روپے۔ ہر گھنٹے میں 4.5 لیٹر فیول پھونکنے والا 22KV کا جنریٹر۔ بنیادی تنخواہ 6 سے 7 لاکھ۔ یوں ایک جج اس مقروض ملک کو لاکھوں میں پڑتا ہے۔ باقی درجنوں کورٹس کے سینکڑوں ججز اور سینکڑوں دیگر سرکاری محکموں اور اداروں کے ہزاروں افسران کی عیاشی کے جملہ لوازمات کو اسی پہ قیاس کر سکتے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عام تاثر کے برعکس پاکستان میں سرکاری افسران کی تنخواہیں اگر مراعات سمیت شمار کی جائیں تو نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر سے بھی زیادہ ہیں بلکہ گریڈ 21 کے پاکستانی افسر پر کل خرچ ہونے والی رقم اقوام متحدہ کے افسران پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی 12 فیصد زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کو عام طور پر ایک بہت فیاضانہ تنخواہ دینے والا ادارہ گردانا جاتا ہے۔ پائیڈ نے یہ تحقیق اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے اشتراک سے کی ہے۔
اسی طرح ورلڈ بینک کے ورلڈ بیوروکریسی انڈیکیٹر کے مطابق پاکستان میں سرکاری شعبے میں تنخواہیں پرائیویٹ شعبے سے 53 فیصد زیادہ ہیں۔ جبکہ سرکاری ملازمین کے زیر استعمال رہائش گاہوں کی کل قیمت تقریباً ساڑھے 14 کھرب یا ڈیڑھ ٹریلین روپے کے برابر ہے۔ (ایک کھرب میں 1000 ارب ہوتے ہیں) ان مکانات کا کرایہ سالانہ11 ارب روپے بنتا ہے۔ جبکہ سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال سے افسران کے اوپر خرچ ہونے والی رقم ان کی بنیادی تنخواہ سے بھی ایک اعشاریہ دو گنا بڑھ جاتی ہے۔
سرکاری افسران کی عیاشی کے حوالے سے دنیا میں ایک ہی ملک پاکستان سے زیادہ سخی ہے۔ وہ ہے Botswana۔۔۔۔ باقی سپرپاور امریکا، یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی اور دنیا کی ابھرتی معاشی طاقت چین کا شمار اس فہرست میں ٹاپ ٹین ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔ بقول آصف صاحب ہر رکن قومی اسمبلی کو بنیادی تنخواہ کے علاوہ 12 ہزار سات روپے کا اعزازیہ، سمپچوری الاؤنس کے پانچ ہزار، آفس مینٹیننس الاؤنس کے آٹھ ہزار روپے، ٹیلی فون الاؤنس کے دس ہزار روپے، ایڈ ہاک ریلیف کے 15 ہزار روپے، تین لاکھ روپے کے سفری واؤچرز یا 92 ہزار روپے کیش، حلقہ انتخاب کے نزدیک ترین ایئر پورٹ سے اسلام آباد کے لیے بزنس کلاس کے 25 ریٹرن ٹکٹ، اس کے علاوہ الگ سے کنوینس الاؤنس کے دو ہزار، ڈیلی الاؤنس کے چار ہزار آٹھ سو، اور ہاؤسنگ الاؤنس کے دو ہزار۔
ذرا جمع تو کیجیے کتنے بنتے ہیں؟
قدرتی وساٸل سے مالامال یہ ملک ویسے ہی برباد نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے انتہاٸی محنت اور اخلاص کے ساتھ کی گٸی لوٹ مار کارفرما ہے۔
دوست یہ تحریر ضرور شئیر کریں یا کاپی کر کے دوسروں کو آگاہ کریں