Urdu Notes of Science, Adab, Stanza, Tashbeeh O Istara, Reportaz and Safaranama

 س: میر اور فانی کے تصورِ غم میں کیا فرق ہے ؟

ج:جو میر کا غم ہے وہ حزنیہ ہے۔اس میں تفکر کا دخل ہے جو مایوسیت اور قنوطیت کی بہ جائے اُمید اور رجائیت سے ہم کنار کرتا ہے۔

جہاں تک فانی کے تصورِ غم کا تعلق ہے تو ان کے کلام کے مطالعے سے دو روپ سامنے آتے ہیں ۔ایک طرف وہ غم آشنا معلوم ہوتے ہیں اور رجائیت کی طرف انسان کو لے جاتا ہے جب کہ دوسری صورت وہ ہے جو کہ قنوطیت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ہر طرف مایوسی ہی مایوسی اور بربادی نظر آتی ہے۔


سائنس اور ادب میں کیا فرق ہے؟ 

ج: تجربات اور مشاہدات سے حاصل کردہ علم کو سائنس کہتے ہیں جب کہ ادب سے مراد وہ علم ہے جو انسانی افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کی ترجمانی کرے۔۔۔


حوالے کا شعر سے کیا مراد ہے؟ 

ج:جب کسی تحریر، مضمون، مقالہ وغیرہ میں ہم ایک شعر کا حوالہ دینا چاہے تو مذکورہ بالا (تحریر/اصناف)سے مناسبت رکھنے والا شعر حوالے کا شعر کہلائے گا۔

دوسرے الفاظ میں حوالے کا شعر سے مراد وہ شعر ہے جس سے موضوع کی وضاحت ہوسکے۔


شاعر شعر میں تشبیہ وغیرہ کا استعمال کیوں کرتا ہے؟ 

ج:شاعر اپنے کلام کو مزّین کرنے اور اس طرح اپنے کلام میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے تشبیہ اور دیگر لوازماتِ شعری کا استعمال کرتا ہے۔


علی گڑھ تحریک نے ادب پر کیا اثرات مرتب کیے؟ 

ج:اس تحریک نے مختلف حوالوں سے ادب کو متاثر کیا، موضوع اور اسلوب پر اثرات مرتب کیے، اسی طرح مضمون نگاری، ناول نگاری، سوانح نگاری، تنقید نگاری اور جدید شاعری کا باقاعدہ آغاز اس تحریک کے زیر اثر ہوا۔۔۔۔


ادیب کو معاشرہ کا نبض شناس کیوں کہا جاتا ہے؟

ج: سادی بات ہے کہ ادیب معاشرے میں رونما ہونے والے مسائل پر غوروفکر کرتا ہے ،ان مسائل کا عمیق نظر سے مشاہدہ کرکے مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ،اس عمل کے دوران وہ معاشرے کے نبض شناس کے روپ میں سامنے آتا ہے۔


?رپور تاژ اور سفرنامے میں فرق بیان کریں

ان دونوں اصنافِ ادب کی ہئیت اگرچہ ایک ہے لیکن اس کےباوجود دونوں کے مزاج میں بڑا فرق ہے:

سفر نامے میں ادیب کسی مخصوص موضوع کو ملحوظِ نظر نہیں رکھتا بل کہ شہروں کا جغرافیہ سمجھانے،مناظرِ قدرت کی ایک ایک تفصیل گنوانے اور تہذیب و تمدّن کی خصوصیات پر روشنی ڈالنے پر اپنا سارا زور صرف کردیتا ہے ۔

اس کے برخلاف رپورتاژ میں ادیب کسی مخصوص واقعہ کو موضوع بناتا ہے۔اس میں وہ مُقامات اور مناظرِ قدرت کا ذکر تو کرتا ہے لیکن ان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے ۔اس کا مقصد تو اس کیفیت کو اُبھارنا ہوتا ہے،جسے اس کی اندر کی آنکھ نے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔


ساختیات اور پس ساختیات کیا ہے؟

ج:ساختیات سے مُراد لفظ کی ساخت ہے،یعنی زَبان کے ان تشکیلی عَناصر کا مطالعہ جس کی بُنیاد پر زَبان بولی جاتی ہے۔جس میں اشیا اور افراد کے ذہنی ساخت کا رشتہ مطالعہ کیا جاتا ہے ساختیات کہلاتی ہے۔اس کے بانی سوسئیر ہے۔

پس ساختیات: 

    اب آتے ہیں پس ساختیات کی طرف اس میں لفظ کے طے شدہ معنی کی مخالفت ہے۔کیوں کہ یہ معنی کی روح کو مُردہ بناتی ہے۔اصل معنی وہ ہیں جو قاری متن سے حاصل کرتا ہے۔یعنی ظاہری معنی اصل نہیں ہوتے۔اس کے بانی رولاں بارتھ ہے۔

فرق:  فرق دونوں میں یہ ہے کہ ساختیات لفظ کی ساخت سے بحث کرتی ہے جب کہ پس ساختیات معنی سے بحث کرتی ہے اور اس سے ادراک میں مدد دیتی ہے۔ 


غالبؔ کی شاعری ان کے زمانے میں زیادہ مقبول  کیوں نہ ہوئی؟

ج:ابتدا میں غالب نے مشکل پسندی کو اپنایا تاہم فضل حق خیر آبادی اور بعض دیگر دوستوں نے مشکل گوئی ترک کرنے کا مشورہ دیا ، تو غالب نے ان کے مشورے پر عمل کیا چناں چہ بعد میں ان کی شاعری ان کی زندگی میں  ہی سلیس نگاری،جدت طرازی اور نُدرت خیال کی وجہ سے دلی سے لے کر پنجاب تک مشہور ہوئی۔۔۔لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالب کی شاعری ابتدا میں مشکل گوئی کی وجہ سے زیادہ مشہور نہ ہوئی۔


علامہ اقبال شاعر بڑے تھے یاکہ فلسفی؟

ج: اقبال ایک فلسفی شاعر تھے جنہوں نے اپنے فلسفے کو شاعری کا لبادہ پہنا کر بہترین انداز میں لوگوں تک پہنچایا۔


علامہ اقبال فلسفہ وحدت الوجود کے قائل تھے یاکہ وحدت الشھود کے؟

ج: اگرچہ یہ متنازع مسئلہ رہا ہے تاھم بعض ناقدین کے مطابق وہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔

 

غالبؔ کی شاعری تقریبا دو صدیوں بعد بھی اتنی مقبول کیوں ہے؟

 ج:ایک تو غالب آفاقی شاعر ہیں دوسری بات یہ کہ غالب کی شاعری میں رجائیت سے بھرپور لہجہ ان کی شاعری کا ہر دور میں مقبولیت کا باعث رہا ہے۔وہ ایک غم آشنا شاعر ہیں ،انھیں زندگی کے سرد وگرم کا تجربہ رہا ہے جن کا بھرپور اظہار ان کے کلام میں پایا جاتا ہے۔موجودہ دور کا انسان متنوع مسائل میں گھیرا ہوا ہے ایسے میں جب وہ غالب کے کلام کو پڑھنے لگتا ہے تو اسے زندگی کی تاریکیوں میں امید کی کرن نظر آتی ہے، اور اسی وجہ سے غالب کی شاعری طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی مقبول ہے۔


پلاٹ سے کیا مراد ہے؟

ج:کہانی میں واقعات کی مختلف کڑیوں کو ایک خاص ترتیب اور سلیقے سے جوڑنے کا نام پلاٹ ہے۔


از قلم ؛ حیدر خان

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

Ads

Ads